سینی گمبٹ

وجہ تسمیہ

گمبٹ کوہاٹ کے جنوب مشرق میں مین راولپنڈی جرنیلی شاہراہ پر20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ قبیلہ خٹک کی ذیلی شاخ سینی کی وجہ سےاسے سینی گمبٹ کہتے ہیں۔ تاہم خط و کتابت، نادرا ریکارڈ اور قدیم ڈاکخانہ اور ریلوے وغیرہ کے ریکارڈ میں بھی یہ سینی گمبٹ کےنام سے منسوب ہے۔ لیکن محکمہ تعلیم اور محکمہ مال وغیرہ کے ریکارڈ میں یہ صرف گمبٹ ہے۔ صرف سینی کا سابقہ اس علاقے کی منفرد پہچان ہے۔ کیونکہ گمبٹ کے نام سے تین اور علاقے بھی پاکستان میں موجود ہے۔ جن میں گمبٹ (ضلع خیرپورسندھ) ایک بڑی تحصیل ہے۔ گمبٹ ضلع مردان میں بھی ہے۔ تاہم لفظ سینی ذہن میں آتے ہی دھیان کوہاٹ کے اس سب سے بڑے ٹاون کی طرف جاتا ہے۔ یہ نہ صرف ایک وادی ہے بلکہ کوہاٹ صوبہ خیبرپختونخواہ  کا  روز بروز ترقی کرتا ہوا علاقہ ہے۔ 1998کے مردم شماری کے مطابق سینی گمبٹ کی آبادی 30000 جبکہ ایک اندازے کے مطابق (50000) پچاس ہزار کے لگ بھگ ہے۔ جس میں پشتو بولنے والے 70 فیصد  اورہندکو بولنے والے 30فیصدہیں۔ جو تمام افغان قوم سے ہیں۔

تاریخ:۔

سینی گمبٹ کی تاریخی حثییت کو جا ننے کیلئے کسی بڑی تحقیق کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ قدیم مغل بادشاہوں، سکھوں، راجاوں، خوشحال خان خٹک وغیرہ کے ہا ں کتابوں تواریخ میں اکثر اس کا ذکر ملتاہے۔ قدیم اٹک قلعہ سے(کوہاٹ کے صحافی ذوالفقار شاہ کی کتاب کوہاٹ تاریخ کے آئینے میں کے مطابق) کوہاٹ پر آنے والے ہر حملہ آور اسی گمبٹ کے راستے گزرا اور اس کو اپنا مسکن بنایا۔ تاہم سکونت صرف خوشحال خان خٹک کے بپھرے ہوئے بیٹوں/اولاد نے اسی پٹی کو اپنا مستقل مسکن بنایا۔ جس کو قیام پاکستان سے پہلے خٹک نامہ کہا جاتا تھا۔ جس میں خوشحال خان خٹک کے ایک بپھرے ہوئے بیٹے نے تو کرک کو مستقل سکونت بنایا۔ بعض ذیلی ساغری خٹک نے  شکردرہ، چھب، انجراء، جھمٹ، کو جبکہ سینی قوم نے ٹیری، لاچی، (مضافاتی) گمبٹ اور گمبٹ کے مضافاتی علاقوں، چورلکی، جبڑ، پٹیالہ سمیت 32 دیہات (تین یونین کونسل) وغیرہ کو مسکن بنا یا۔ انگریز کے چہیتے نواب آف ٹیر ی نے گوروں، کی آشیر آباد سے خٹک نا مہ پر اپنا راج قا ئم کیا۔ اورٹیری کے بعد گمبٹ کو مرکزی مقام دیا- یہی وجہ ہے کہ پچھلےادواروںمیں گمبٹ ومضافاتی۳۵ دیہات کی تحصیل کوہاٹ نہیں بلکہ ٹیری ہوا کرتی تھی اور 150سال سے  پرا نہ ریکارڈ  محکمہ مال ٹیری  ہے۔

لفظ گمبٹ کے بارے اور بھی کئی روایات ہیں۔ کہاں جاتا ہےکہ ایک انگریز اعلی عہدیدار پر گمبٹ (Gambat)کے نام یہ علاقہ منسوب ہے جبکہ ایک روایت ہے کہ پچھلے لوگ علاقے طول وعرض و نشیب فراز کی وجہ سے حوالہ دیتے تھے۔ جسمیں گمبٹ کے جنوب میں ایک بڑا پہاڑ ہے جو گرگروٹ/ اور مقامی سطح  براغزون کے نام سے مشہور ہے۔ اسکی شکل گنبد جیسی ہےجوکوھاٹ سے نکلتے ہی صاف نظر آتا ہے کہاں جاتا ہےکہ گنبد بگڑکرگمبٹ ہوگیا لیکن پرانے ریلو ے ریکاڈ کے مطابق یہ GAMBAT ہے۔ جبکہ موجودہ اسکو GUMBAT لکھا اور پکارا جا تاہے جبکہ ایک روایت یہ چلی کہ کشمیر کے بٹ قوم کا کو ئی فرد یہاں گم ہو گیاتھا۔ اس لیے اسکو گمبٹ کہا جا تاہے۔ تا ہم یہ روایت ضعیف ہے۔ گمبٹ  کا ذکر خوشحال خان خٹک شا عری میں بھی ملتا ہے۔

جغرافیائی حثییت:-

شمال میں پہاڑFR،اور تولنج اور مشرق میں غورزئی، جنوب مغرب میں سیاب ڈھوک جات شمال مغرب میں گنڈیالی جات۔ مقامی سطح پر گمبٹ کی شمالی علاقے کو پتاو،شمال مغرب کو چپری وغیرہ پنگئی، ،جبکہ جنو ب کو مسروالا، سویری اور مشرق کو گڑھی کہا جاتا ہے۔

جیو گرافی:۔

سینی گمبٹ کے 5 بڑے محلے ہیں جن کو پہلے تپہ کہا جا تاتھا۔ 1۔محلہ حسن خیل2۔ محلہ خدرخیل3۔  محلہ بازار4۔محلہ درتپی5۔ محلہ اعوان ۔

مذکورہ ۵ محلوں (تپوں)کے علاوہ ذیلی محلے بھی ہے۔ ان میں محلہ بازار کے شمال میں ریلوے سٹیشن کالونی، محلہ حاجی آباد، پنج میل، گلشن کالونی، کمالدینہ،قابل ذکر ہیں۔

حسن خیل:-

حسن خیل کو گمبٹ کابانی بھی کہاجا تا ہے۔گمبٹ کے جنو ب میں محلہ بازار،خدرخیل اور درتپی کے  درمیان  چھوٹاسا محلہ کہا جاتا ہے۔کہ یہ لا چی کے علاقے حسن خیل سے ۱۳ صدی میں ہجر ت کر کے آئے۔

خدرخیل:-

سینی گمبٹ کے بار ے میں ایک اور روایت یہ بھی ہے۔ کہ پچھلے ادوارروں میں قبیلوں خصوصاًبنگش، آفریدی، خٹک اور بادشاہوں،مہاراجوں کے درمیان جنگ بہت ہو تی تھی۔خٹک نامہ کی اس پٹی کے مین علاقے ہونے کی وجہ سے جنگجوں کا پڑوا گمبٹ میں ہوتا۔ جو آکثر علاقے کی غریب باسیوں کو لوٹ لیتے وغیرہ۔ غالباً یہی وجہ ھے۔ کہ گمبٹ کے تمام آبادی ڈھلوان سطح مرتفع پر واقع ہے۔جن میں محلہ خدرخیل بھی ہے۔ جو گمبٹ کے جنوب میں چھوٹی سی چوٹی پر واقع ہے۔جوگرگروٹ پہاڑ سلسلے کے قر یب ہے۔ محلہ خدرخیل بڑھتا ہوا قریبی  دیہات  سیاب تک پہنچ گیا ہے۔ اس محلے کی آبادی ہے۔ جس میں رجسٹرڈووٹرلسٹ کے مطابق ہیں۔اسں  محلے کی اکثریتی آ بادی کا پیشہ کھیتی باڑی ،مال مو یشی ہے ۔ تا ہم گمبٹ سے اس محلے کی اکثریت بیرون ممالک میں برسر روزگار ہے۔ گمبٹ کی مقامی سیاست پر ۲۲ سال تک چھانے والے سابقہ ناظم ،سابقہ ممبر ڈسرکٹ کونسل کوہاٹ ملک فضل ربی کا تعلق بھی اس محلے سے ہے۔ جبکہ اُن کے والد ملک فضل رحیم جو ۴مرتبہ صوبائی /قومی الیکشن   لڑچکے ہیں۔ پورے  محلے میں پشتو بولنے والے۱۰۰فیصد ہیں۔

درتپی:-

محلہ درتپی گمبٹ کے درمیان ڈھلوان سطح پر واقع محلہ ہے آبادی ہے ۔ پشتو سپیکر ۱۰۰فیصد ہیں۔

اعوان

اعوان محلہ گمبٹ کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ قیام پاکستان سے پہلے ایک آدھ خاندان مضافاتی علاقےسے ہجرت کرکے یہاں آباد ہوا۔ جسکی وجہ سے اس کا نام اعوان ہوگیا۔ اس کی آبادی ووٹرہیں محلہ میں۸۰فیصد ہندکو۲۰ فیصد پشتو بولنےوالےہے۔ جو تمام نسلی افغان ہیں۔ پیشہ، ملازمت، بیرونی شہر کراچی وغیرہ میں برسر روزگار ہیں۔

بازار

بازار محلہ قدیم اندرون بازار گمبٹ سے آبادہونا شروع ہوا۔اور بڑھتا بڑھتے ریلوے کالونی تک پہنچ گیا یہ نسبتا گنجان آباد علاقہ اور کاروباری مر کز ہے۔ بازار کے قریب ہوتے ہوئے اس کا نام بازار محلہ رکھا گیارقبہ کے لحاظ سے انتظامی دفاتر ڈاکخانہ، تھانہ، ہسپتال اور دیگردفاتراس محلہ میں ہیں۔ پیشہ تجارت ،ملازمت اور ریاست خٹک نامہ کے نواب آف ٹیری نائبین/مشیران خاص خانزادہ فیملی بھی اس میں آباد ہیں۔ جو ایک عرصہ تین دہائیوں تک گمبٹ و مضافاتی علاقے پرانتظامی/ میں سالوں پر راج کرتے رہے، قابل ذکرغوث محمد خان، دوست محمد خان (سابقہ چیئرمین B-D  سسٹم) ایوب خان، جنرل ضیا ء الحق کے دورمیں جبکہ ایک خاندان اکوڑ خیل خواجہ خان شامل ہے-

سینی گمبٹ جو کہ کوہاٹ کے مشرق ۲۵ کلومیٹر بندی شاہراہ پر واقع ہیں-علاقے کے ۳۵ دیہاتوں کا مرکز ہیں- جن میں وادی زیڑہ، پٹیالہ، چورلکی، نظام پور، تورستنہ، زیارت شیخ اللہ داد، خوشحال گڑھ، جبڑ، وغیرہ قابل ذکر ہیں یہی وجہ ہےکہ ان علاقوں کے باسیوں کی انتظامی امور کے لیے ۷۰ کلو میڑ کوہاٹ سفرطے کرنا پڑ تا ہے-