تھانہ

تھانہ  ہر ایک علاقے میں ہونا بہت ضروری ہوتا ہے  اس طرح گمبٹ  میں بھی ایک  پولیس تھا نہ  ہےجسکے ساتھ سیاب،گنڈیالی جات،گنڈیالی بالا،گنڈیالی پایان، گنڈیالی تولنج، سیاب ڈھوکجات، سینی گمبٹ، تولنج قدیم، تولنج جدید، کٹہ کانڑی، لوخاڑی، غورزئی پایان، ناکبند، تلکن، دربوکس، توئی، خوشحال گڑھ ، کمر، گل حسن بانڈہ ، کنڈر، جبڑ، پرشئی، ڈھوکجات، چورلکی، کیڑی شیخان، خواجہ پائل، مندونی، شادی پور، زیڑہ پٹیالہ، توراستنہ، پستہ سنڈہ، وغیرہ شامل ہیں۔تھانہ سینی گمبٹ جو کہ ضلع کوھاٹ میں سب سے بڑا تھا نہ تھا جسمیں تین چوکیاں پولیس چوکی شادی پور، پولیس چوکی خوشحال گڑھ ، پولیس چوکی گل حسن بانڈہ اور پولیس چوکی شادی خیل شامل تھی جسمیں ائی ایف آر کی سہولت بھی موجود تھی تاہم پولیس چوکی بلی ٹنگ کو دو سال پہلے تھانے کا درجہ ملنے کے بعد پولیس چوکی شادی خیل تھانہ گمبٹ کے ساتھ شامل کر دی گئی۔ جس سے تھانہ گمبٹ پر کچھ حد تک لوڈ کم ہو گیا تاہم تین چوکیاں اب بھی تھانہ گمبٹ کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ جو ضلع کوھاٹ کی پنجاب کے ساتھ ملحقہ سرحدوں کو سنبھالے ہو ئے ہیں۔ جہاں کوئی  بھی قتل چوری یا ڈکیتی کی وردات ہوجائے تو اس تھانے میں رپورٹ درج کراتے ہیں ۔ تھانہ گمبٹ کے شروعاتی علاقے میں آتا ہے۔ یہ تھانہ سینی گمبٹ  ہسپتال کے ساتھ واقع ہے۔ جب پولیس کسی مجرم کو گرفتار کرتی  ہے توابتدائی تفتیش کیلئے مجرم کوکوھاٹ تھا نہ لے جاتے ہیں۔ دوکنال جگہ پر مشتمل ہے۔ اس میں  پولیس کے سات رہائشی کمرے دو ہال، دفتر اوردو حوالات ہیں۔ اس میں ایک حوالات مردوں اور دوسرا عورتوں کے لےمختص کیا گیا ہے۔ پولیس تھانہ کا علاقے میں ہونا بہت ضروری ہے اگر یہ پولیس تھانہ نہ ہوتا تو بہت سے مسائل لوگوں کو ہوتے۔ ڈکیتی سرعام ہوتی۔ جگھڑے، قتل اور چوریاں ہوتی۔ اس لئے اس کا قیا م بہت ضروری تھا اس تھانے میں 48 پولیس دو حوالدارایس ایچ اورایک ایڈیشنل ایس ایچ او پر مشتمل ہے۔ اس تھا نہ کی  3 اپریل ،1905کوپہلی عمارت قائم کی گئ۔ اسکی دوسری عمارت 1983 کو قائم کی۔