کوہاٹ میں آوارہ کتوں کی بھر مار

(سپیشل رپورٹ)کوہاٹ کے گوشے گوشے میں آوارہ کتوں نے ڈیرے جما کر عوام کا جینا حرام کیا ہوا ہے

کوہاٹ جہاں امرودوں کے باغات سمیت بہت سی دیگر چیزوں کے لئے مشہور ہے وہاں ایسے کتوں کے حوالے سے بھی خاص شہرت حاصل ہے، یہاں کے لوگوں کے مختلف مشاغل میں سے ایک اعلٰی نسل کے کتے پالنا بھی ہے جن میں ‘بل ٹیئر’خاص معروف ہے ۔ ایک زمانہ تھا کہ ملک بھر کے طبقہ امر اء سے تعلق رکھنے والے افراد ، جاگیردار اور وڈیرے اعلیٰ نسل کے کتے خریدنے کے لئے کوہاٹ کا رخ کرتے تھے، ان میں پیپلز پارٹی کے رہنما اور سندھ کے سابق وزیر اعلٰی ممتاز بھٹو بھی شامل تھے۔ہم میونسپل کمیٹی کے حکام کی توجہ ایک ایسے مسئلے کی جانب دلانا چاہتے ہیں کہ جس کا کوئی حل دور دور تک نظر نہیں آرہاہے ، وہ مسئلہ یہ ہے کہ کوہاٹ کے گوشے گوشے میں آوارہ کتوں نے ڈیرے جما کر عوام کا جینا حرام کیا ہوا ہے ، ان کتوں کی بھر مار کی وجہ سے کوہاٹ اس وقت جنوبی اضلا ع کی شہرت کی خاص بلندیوں کو چھو رہا ہے کیونکہ آوارہ کتوں کی اتنی کثرت کسی دوسرے ضلع میں نظر نہیں آتی ، کوہاٹ میں ان کی تعداد حیران کن ہندسوں کو چھو رہی ہے۔ مختلف تن وتوش اور جسامت کے یہ آوارہ کتے ہر طرف منڈلاتے ہوئے نظر آتے ہیں ، ان میں دوغلی بلکہ مشکوک نسل کے کتے بھی شامل ہیں جس کی اکثریت خارش زدہ، بیمار اور پاگل کتوں پر مشتمل ہے ، لیکن بہت سے بے رضرر نظر آنے والے کتے کئی لحاظ سے خطرناک بھی ہیں اور لوگوں کو کاٹنے کے کئی واقعات میں بھی ملوث ہیں ، ان میں بہت سے کتے ایسے بھی ہیں جن کے کاٹنے پر کسی بھی شخص کی حالت تشویشناک ہوسکتی ہے اور پیٹ میں 14ٹیکے بھی لگانے پڑ سکتے ہیں ، چونکہ ان آوارہ کتوں کا کوئی والی وارث نہیں ہوتا اس لئے ان کا کچھ بگاڑ ا بھی نہیں جاسکتا ، اس وقت بھی میونسپل کمیٹی میں کئی بھرتیاں ڈاگ شوٹر کے نام پر ہیں لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ کئی افراد پر مبنی یہ ٹیم آج تک کسی ایک کتے کا شکار بھی نہیں کر سکی ، عوامی شکایات پر میونسپل کمیٹی کے حکام اور افسران ہمیشہ طفل تلسلیاں دیتے ہوئے کانوں میں روئی ٹھونس لیتے ہیں تاکہ دوبارہ کوئی ایسا مطالبہ ان کی سماعتوں پر بجلیان نہ گرائے جسے پورا کرتے ہوئے عوام کا بھلا ہو ، خداکی پناہ ، چارچار شوٹر بھی شہر سے آوارہ کتوں کا صفایا نہیں کر سکتے ، مقام حیر ت، بلکہ مقام شرم ہے ، اسی لئے عوام یہ بات کہنے میں حق بجانب ہیں کہ جوافسران کاغذوں میں موجود بھوت ملازمین (156اہلکار گھر بیٹھے تنخواہ لے رہے ہیں جس پر سی ایم اور اور ایم پی اے ضیاء بنگش خاموش ہیں) کا کچھ نہییں بگاڑ سکے وہ ان آوارہ کتوں کا کیا بگا ڑ لیں گے، جو جیتے جاگتے ‘شتر ‘بے مہار بن کر ہر جگہ سینہ تان کر پھر رہے ہیں ، کیا میونسپل کمیٹی کے افسران کے پاس ان آوارہ کتوں کا کوئی علاج ہے ؟کیا وہ کوہاٹ کی عوام کو اس افتاد سے نجات دلا سکتے ہیں ؟یا اس کے لئے صوبائی اسمبلی سے کوئی خصوصی بل پاس کروانا پڑے گا ۔ موجودہ سینٹری انسپکٹر جناب سہیل صاحب بھی اس معاملے پر اب کوئی توجہ نہیں دیتے حالانکہ وہ خود بھی ڈوگ شوٹر میں ہی بھرتی ہوئے تھے لیکن اب افسر (چیئر مین) بن کر اپنی خدمات سے منہ پھیر رہے ہیں جبکہ نہ ہی کسی کو اس کی ٹریننگ دے رہے ہیں۔

Tags: , , ,

مصنف کے بارے میں:

انقلابی سوچ رکھنے والے گل نبی آفریدی سینی گمبٹ ڈاٹ کام سمیت گمبٹ کمپیوٹر اکیڈمی کے بانی و پرنسپل ہیں، جو کہ محنت اور صرف محنت پر یقین رکھتے ہیں۔