تعلیمی ادارے

وطن عزیز کی طرح سینی گمبٹ میں بھی تعلیم کی صورتحال انتہائی مخدوش ہے شرح خواندگی بھی جدید طور کے تقاضوں سے کم ہے ، گورنمنٹ سکولز میں پڑھائی نہ ہونے کے برابر ہے ، جبکہ بھاری بھرکم تنخواہیں وصول کرنے والے اساتذہ صرف سکول کا چکر لگانے پر ہی اکتفا کرتے ہے۔ گمبٹ میں بوائزھائیر سیکنڈری سکول جو کہ عرصہ سو سال سے قائم ہے تا ہم ھا ئیر سکینڈری کا درجہ 1988 میں ملا۔ جبکہ گرلز ھائیر سکینڈری سکول بھی عرصہ کئی سالوں سے قائم ہے تاہم ھائیر سکینڈری کا درجہ  عرصہ سات سال سے ملا ہے۔ گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول گمبٹ میں پینے کے صاف پانی تک کی سہولت موجود نہیں ، اور طلباء ٹینکی سے پانی پینے پر مجبور ہے ، بلڈنگ کی صورتحال بھی انتہائی مخدوش تھی ، جو کسی بھی حادثہ کا سبب بن سکتی تھی مگر 2011-12 میں سکول کے ایک حصے میں نئی بلڈنگ کی تعمیر سے کچھ بہتری ہوئی ہے ۔ امر واقعہ ہے کہ گمبٹ کے 32 دیہاتوں میں کوئی ھائی سکول نہیں تاہم گزشتہ مہینے پرشئی مڈل سکول کو ھائی کا درجہ ملا ہے۔ گمبٹ میں تین پرائمری بوائز جبکہ دو گرلز پرائمری سکول ہیں جنمیں پرائمری سکول نمبر 1 عرصہ 125 سال سے قائم ہے جسمیں سکھ، ہندو، وغیرہ طلباء کاریکارڈ بھی موجود ہے جبکہ 4 پرائیوٹ سکول ہیں جن میں سابقہ ماہر تعلیم عبد لرازق ریٹائرڈ ای ڈی او ایجوکیشن کوھاٹ کا سکول بھی جبکہ ملحقہ ڈھوک جات میں پرائمری اور پبلک سکول اس کے علاوہ ہیں۔