جنگ آفریدیوں کی، ہارکوہاٹ کی

فضل محمود عینؔ 03339638482

11مئی2013ء کے عام انتخابات میں کوہاٹ ڈویژن کے تین اضلاع کوہاٹ کرک اور ہنگو میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر پاکستان تحریک انصاف کے سونامی نے واقعی حیرت انگیز نتائج دیکھائے تینوں اضلاع میں بڑی سیاسی پارٹیوں کے بڑے بڑے برج الٹ گئے عوام نے ’’تبدیلی‘‘ کے نام پر تحریک انصاف کے امیدواروں کو بھاری مینڈیٹ سے نوازا ضلع کوہاٹ کی تین صوبائی نشستوں میں سے دوپر یعنی حلقہ پی کے 38 سے ضیاء اللہ بنگش نے دو دفعہ ممبرصوبائی اسمبلی رہنے والے پیپلز پارٹی کے امیدوار سید قلب حسن کو بھاری مارجن سے شکست دی، اسی طرح حلقہ پی کے 39 سے امیتاز شاہد قریشی ایڈووکیٹ نے اپنے ’’تگڑے‘‘ سیاسی مخالفین کو ہراہ دیا جبکہ حلقہ پی کے 37 سے پی ٹی آئی کے نوابزادہ اورنگزیب عالم خان سابقہ صوبائی وزیر اورآزاد امیدوار ملک امجد خان آفریدی کے ہاتھوں شکست سے دو چار ہو گئے قومی اسمبلی کی اکلوتی نشست این اے 14 شہریار آفریدی کے حصے میں آئی اور مسلم لیگ(ن)، جمعیت علمائے اسلام، پیپلزپارٹی آزاد امیدواروں اور اے این پی وغیرہ کے مجموعی ووٹوں کے برابرشہریار آفریدی کو عوام نے حیران کن ووٹ دےئے۔ شہریارآفریدی 2002ء کا الیکشن بھی اسی حلقے سے لڑچکے تھے 2008 میں انہوں نے الیکشن میں حصہ نہیں لیا جبکہ 2013 میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر انہیں بھر پور پذیرائی ملی، مذکورہ ایم این اے ، اعلیٰ تعلیم یافتہ خوبرونوجوان اور شاندار خاندانی پس منظر کے حامل ہیں اس لئے عوام کی توقعات کا گراف بہت اونچا تھا مگر تقریباً چارماہ گزرنے کے باوجود ان کی جانب سے یا ان کی پارٹی کی طرف سے کوئی ’’عوامی کارنامہ ‘‘ کوہاٹیوں کودیکھا نصیب نہیں ہوا صرف خوبصورت تصاویراور جذباتی وعدوں سے کام چلایا جارہا ہے دوسری طرف حلقہ پی کے 37 سے کامیاب ہونے والے آزاد امیدوار امجد خان آفریدی جنہوں نے کامیابی کے بعد پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرلی اور انہیں سابقہ محکمہ ہاؤسنگ بطور مشیر تمام مراعات کے ساتھ سونپا گیا ان کی وزارت کا ان کی پی ٹی آئی میں شمولیت پارٹی کے بعض دھڑوں خصوصاً ایم این اے شہریار آفریدی کو پسندنہیں آئی حالانکہ عوام کو توقع تھی کہ یہ دونوں آفریدی ، مل کر کوہاٹ کی تعمیروترقی کیلئے پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے بھر پور خدمات سرانجام دیں گے اور سینیٹ ہیں ملک امجد آفریدی کے چھوٹے بھائی ملک عباس آفریدی جو فاٹا کے سینیٹر زکے پارلیمانی لیڈر بھی ہیں اور وزارت میں بھی رہ چکے ہیں وہ بھی اپنے ان دوآفریدی بھائیوں کے ساتھ کوہاٹ کیلئے خصوصی تعاون کریں گے مگر بدقسمتی سے ان آفریدیوں کے آپس میں مقابلے اور رسہ کشی کی وجہ سے کوہاٹ ’’مائنس‘‘ ہوتا جارہا ہے جو کسی بھی طور پر اہلیان کوہاٹ کیلئے نیک شگون نہیں ہے، کوہاٹ میں گیس ، بجلی، پانی ، روڈ اور صحت وتعلیم کے شعبوں کے مسائل حل طلب ہیں، سابقہ صوبائی وزیر ملک امجد آفریدی نے اپنے سابقہ دور میں اپنے حلقے پی کے 37 سمیت پورے ضلع کوہاٹ میں اپنے چھوٹے بھائی سینیٹر اور وفاقی وزیر ملک عباس آفریدی کے فنڈ سے گیس سے محروم 33 علاقوں کے لئے گیس منظور کروائی اوربہت سے علاقوں میں گیس کی فراہمی شروع بھی ہو چکی ہے، مختلف علاقوں کیلئے 523 ٹرانسفارمرز نصب کروائے جو ایک بہت بڑا ریکارڈ ہے، گمبٹ اور بلی ٹنگ میں بوائز اور گرلز ڈگری کالجز بنوائے ، 20 سے زائد بڑی واٹر سپلائی سکیمیں اور مجموعی طور پر 56 کلو میٹر بلیک ٹاپ روڈ کی تعمیر اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ خوشحال گڑھ پل کی تعمیر کاآغاز، جس کا سنگ بنیاد رکھتے اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی خوشحال گڑھ آئے تھے اس کے علاوہ آئل ریفائنری کی منظوری، ہسپتالوں کیلئے 3کروڑ کی خصوصی گرانٹ، یتیم بچوں کیلئے سویٹ ہوم اور اسٹیٹ لائف زونل آفس کا قیام ایسے بڑے ترقیاتی کام تھے جنہوں نے آفریدی برادران کی سیاسی شہرت پورے ڈویژن میں پھیلا دی اور انہوں نے 20جنوری 2013ء کو کمپنی باغ کوہاٹ میں ایک عظیم الشان جلسہ منعقدکرنے کے بعد آزاد حیثیت میں تینوں صوبائی اور ایک قومی حلقے پر انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا اور یہ کوہاٹ کی سیاسی تاریخ کاایک انوکھا واقعہ تھا جس میں تحریک انصاف کی آندھی کے باوجود ملک امجدآفرید کے والد ملک شمیم آفریدی نے قومی اسمبلی کی نشست پر 20 ہزار ووٹ حاصل کرکے سیاسی حریفوں کو حیران کردیا اور دوصوبائی حلقے ہارنے کے باوجود ملک امجد آفریدی حلقہ پی کے 37 کی اپنی نشست بچانے میں کامیاب ہوگئے اور یوں انہوں نے بھی اس حلقے کی 66 سالہ تاریخ میں یہ ریکارڈ توڑ دیا کہ یہاں سے مسلسل دوبار کوئی بھی عوامی نمائندہ کامیاب نہیں ہوسکتا، اگر چہ ملک امجد آفریدی کی کامیابیوں کو بہت سے سیاسی حلقے پیسے اور’’ چمک‘‘ کا کرشمہ قراردیتے ہیں اور یہ تاثربہت حد تک درست بھی ہے مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انہوں نے گزشتہ دورمیں بھرپور انداز میں عوامی خدمت کی ہے یہی وجہ ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے سونامی میں بھی اپنی نشست بچانے میں کامیاب ہوگئے، قارئین اب ایک بار پھر ایم این اے شہریار آفریدی کی طرف آئے ہیں چار مہینے قبل ہونے والے الیکشن میں بغیر پیسے اور لاچ کے عوام نے جس محبت اور والہانہ انداز میں شہریار آفریدی اور ان کی پارٹی کو تاریخ ساز مینڈیٹ دیا وہ بے شک شہریار آفریدی پر اللہ پاک کی خصوصی مہربانی ہے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ رمضان المبارک کے پورے مہینے میں عوام شدید گرمی اور لوڈشیڈنگ کا عذاب بھگت رہے تھے ایک ہی دن میں کوہاٹ کے 13 ٹرانسفارمر جل گئے تھے تو اس موقع پر ایم این اے شہریار آفریدی اسلام آباد کی بخ بستہ فضاؤں میں رمضان انجوائے کررہے تھے اور اپنے ورکرز اور ووٹرز کا فون بھی اینڈ کرنے سے قاصر تھے اسی ناپسندیدہ روےئے کی وجہ سے کوہاٹیوں نے افتخار گیلانی جیسے سینٹیر پارلیمنٹرین اور لیجنڈ سیاستدان کو مسترد کردیا، شہر کوہاٹ جاوید ابراہیم پراچہ دوبارہ اسمبلی کا منہ نہ دیکھ سکے، مفتی ابرار سلطان جیسے پارسا کوصوبائی اسمبلی کاووٹ بھی نہ مل سکا اور نہ پختونوں کے یار پیر دلاور شاہ پھر قومی اسمبلی کے گیٹ تک پہنچ سکے کیونکہ عوام کوان سے اسی طرح کی وعدہ خلافیوں اور رویوں کا سامنا کرناپڑا تھا یہ درست ہے کہ ایم این اے کو اپنے اسمبلی سیشن اور فنڈز کے سلسلے میں اسلام آبادمیں روڈ دھوپ کیلئے موجود رہنا پڑتا ہے مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عوام سے براہ راست رابطہ رکھنے اور موثر انداز میں ان کے مسائل کے حل کیلئے بھی ایک جامع میکنزم درکار ہوتا ہے اور موجودہ دور میں موبائل فون اٹینڈ نہ کرنا یا کال اور میسج کار ریپلائی نہ کرنا اپنے ووٹرز اور سپورٹرز کو ناراض کرنے کے مترادف ہے، یہی وجہ ہے کہ عیدالفطر کے بعد ایم این اے شہریار آفریدی اور ضلعی صدر ہمایون پہلوان کے مابین ایک سرد جنگ چل نکلی ہے کیونکہ پارٹی کی ورکنگ کلاس ایم این اے شہریار آفریدی سے عوامی کام کرنے کامطالبہ کررہی ہے جبکہ پارٹی کاسرمایہ دار گروپ آنے والے بلدیاتی انتخابات میں اپنے لئے عہدوں کے حصوں کی دوڑ دھوپ میں مصروف ہے اور اس سرمایہ دار گروپ کیلئے ایم این اے شہریار کی ناراضگی خطرے کی گھنٹی ہے دوسری طرف 22 اگست کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں حلقہ این اے ون کی نشست غلام احمد بلور نے سہ جماعتی اتحاد کے بینر تلے اپنی نشست جیت کر گویا اپوزیشن جماعتوں سمیت اے این پی میں جان ڈال دی ہے اور یہی ’’ اتحادی اثرات ‘‘ مشاورت سے پورے صوبے میں پھیلنا شروع ہوگئے ہیں کیونکہ کوہاٹ میں بھی جمعیت علمائے اسلام کے سابقہ جنرل سیکرٹری حاجی جمیل پراچہ کی رہائش گاہ پراچہ ٹاؤن میں کوہاٹ کی آل پارٹیز کا ایک اجلاس ہوا جس میں شہریار آفریدی کے سب سے سخت جان سیاسی حریف سیٹھ گوہر سیف اللہ خان کو اتحاد کا صدر اور ن لیگ کے ضلعی صدر شیر خان بنگش کو سرپرست جبکہ پیپلز پارٹی کے ضلعی صدر ملک اقبال شاہ غار خیل کو چےئرمین نامزد کیا گیا ہے اس اجلاس کو کوہاٹ کے سیاسی پنڈت آنے والے بلدیاتی انتخابات کیلئے ایک ’’خاموش ایڈجسٹمنٹ ‘‘ قرار دے رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ ایم این اے شہریار آفریدی نے بھی آج کل کوہاٹ کے مختلف علاقوں کی مساجد میں کھلی کچہری کاسلسلہ شروع کررکھا ہے یہ یقیناً ایک مثبت روایت ہے مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ کھلی کچہریوں میں اٹھائے گئے ایشوزپر کس حد تک عمل درآمد ہوتاہے کہیں یہ بھی صرف فوٹوسٹیٹز تک ثابت نہ ہو ۔ ہمارے خیال میں ایم این اے شہریار آفریدی کو فوری طور پر کوہاٹ میں ایک ٹرانسفارمر مرمتی ورکشاپ شروع کرانی چاہیے اس ورکشاپ کی فزیبلٹی رپورٹ پر سابقہ خاتون اے این اے خورشید بیگم نے خاصا کام کیا تھا اگر اسی کو بنیاد بنا کر وفاقی حکومت سے منظوری لے لی جائے تو صرف 5کروڑ کی لاگت سے جنوبی اضلاع کیلئے یہ کار آمد ورکشاپ بنائی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ کے ڈی اے کے گرڈ سٹیشن کے آؤٹ پٹ کے جو مسائل ہیں یا کوہاٹ سے داؤد خیل کیلئے 132کے وی کی ٹرانسمشن لائن کا مسئلہ ہے، گیس سے محروم علاقوں کیلئے سینیٹر عباس کے فنڈ سے جو منظوری ہو چکی ہے مگر تاحال کام نہیں ہورہا اس مسئلے پر اور آئل ریفائنری کی تعمیر کے ایشو پر زاتیات اور سیاست سے بالاترہو کر آفریدی برادران کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے ورنہ آفریدیوں کے اس ’’مقابلے‘‘ میں کوہاٹ کا مفاد ڈوب جائے گا اور یہ بھی لکھ لیں کہ اگر تحریک انصاف کے بڑوں نے بڑے پن کا مظاہرہ نہ کیا تو آئندہ بلدیاتی الیکشن بھی ان کے ہاتھوں سے نکل جائے گا جہاں تک کوہاٹ کے ہسپتالوں کی حالت زار کا تعلق ہے تو اس کیلئے ایم پی اے حلقہ 38 ضیاء اللہ بنگش جدوجہد کررہے ہیں ٹی ایم اے پر بھی وہ کرپشن کے خاتمے کیلئے توجہ دے رہے ہیں، شکایات سیل کے قیام پر بھی وہ سیاسی دباؤ کا مقابلہ کررہے ہیں وہ اپنے صوبائی مضامین میں ’’پاس ‘‘ ہونے کی جدوجہد کررہے ہیں لہٰذا ایم این اے شہریار آفریدی کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے ’’فیڈرل مضامین‘‘ میں پاس ہونے کی جدوجہد کریں اور پارٹی کو یکجا کرنے کی کوشش بھی کریں تاکہ 70 ہزار کوہاٹیوں کے ووٹوں کی کچھ لاج تو رہ سکے ۔ وگرنہ بقدلِ شاعر صرف اک قدم اٹھا تھاراہِ شوق میں غلط منزل تمام عمر مجھے ڈھونڈتی رہی!

مصنف کے بارے میں:

انقلابی سوچ رکھنے والے گل نبی آفریدی سینی گمبٹ ڈاٹ کام سمیت گمبٹ کمپیوٹر اکیڈمی کے بانی و پرنسپل ہیں، جو کہ محنت اور صرف محنت پر یقین رکھتے ہیں۔

تبصرہ کیجیے