خطہء کوہاٹ کے ایک رجل رشید ، سید افتخارحسین شاہ سابق گورنرخیبر پختونخوا۔

وہ بھلائی اور نیکی کا ایک نمونہ تھے۔ چکدرہ میں یونیورسٹی نے دوردراز کے محروم طلباء اور طالبات کو اعلی تعلیم سائنس و ٹیکنالوجی کی جدید سہولتوں سے آراستہ کردیا۔ تو اونچے ٹیلے پر بورڈ کی عظیم الشان بلڈنگ بھی ٹارگٹ ٹائم میں اپنی ہدایات کی روشنی میں قائم کردیا۔

کوہاٹ کے چھوٹے سے علاقے میں بڑے اور قد آور سینئر بیوروکریٹ ، ڈاکٹرز، انجینئرز ، جج اور قومی اور سیاسی قائدین پیدا ہوئے ۔ جنھوں نے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں بڑا نام پیدا کیا۔ ان سے قطع نظر اگر صرف گورنری کے مرتبے کو مرکز فکرو نظر بنائیں تو اس منصب جلیلہ پر یکے بعد دیگرے کوئی پانچ چھ گورنرز فائز ہوئے مگر جب اس کہکشاں میں سید افتخار حسین شاہ چاند بن کر طلوع ہوئے تو سارے ستارے سبک سار ہوئے۔ وہ اپنے حاضرین میں ممتازہی نہیں منفرد بھی تھے۔ شگفتہ طبعیت کے ملن سار قائد، جو افسر کم اور انسان زیادہ تھے۔ جسکی دوری تعلقات پر مائل کرتی اور انکی قربت شائستگی کو آواز دیتی تھی۔ ٹھہراہوا سڈول قد۔ مائل بہ فربہی جسم، کشادہ خوش نما چہرہ، بولتی ہوئی آنکھیں، جامہ زیب اتنے کہ جو لباس مغربی یا مشرقی پہنتے سجا سجاسا لگتا تھا۔میٹھے اور دھیمے لہجے کی شیرینی سامعین کی سنگینی کو پگھلا کے رکھ دیتی تھی۔انکی باتیں مصری کی ڈلیاں اور پھولوں کی کلیاں تھیں۔ موصوف اعلی پائے کے منتظم ، مدبر اور گہری بصیرت کے حامل کارگزار تھے۔ صوبے کی مقابلتاً سب سے بڑی طاقت کا نام گورنر تھااور اس خطے کی سب سے بڑی شائستگی اور شرافت کا نام سید افتخار حسین شاہ تھا۔ جس کا جسم گورنر ہاؤس میں رہتاتھا۔ روح پورے صوبہ خیبر پختونخوا کی فضاؤں میں گردش کرتی تھی اور فکر عالمی افق پر اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے پہلی دنیا کے رہنماؤں سے خراج وصول کرتی رہی تھی۔ موصوف ایک کرشماتی شخصیت کے مالک تھے۔یہ خطہ اور بالخصوص کوہاٹ اسکے اندر وجود میں رہتا تھا۔ اسلئے سب سے پہلے اہلیان کوہاٹ کی دیرینہ محرومیوں کو دور کرنے کا تہیہ کیا۔ انکی صحت اور تعلیم کے حوالے سے میڈیکل کمپلکس موضع جرما میں یونیورسٹی کا قیام اور اسکے پہلو میں تعلیمی ثانوی امتحانی بورڈ کی شاندار بلڈنگ ۔ کوہاٹ کے پوش اور جدید ٹاؤن شپ میں ہسپتال الشفاء اور اساتذہ کی ٹریننگ اکیڈیمی اسکے علاوہ تجاوزات کو ہٹا کر شاہراہوں کی کشادگی ، عوامی و فلاحی منصوبوں کے ایسے کارنامے سر انجام دیے۔ جو انکی ذہانت ، محنت ، محبت ، لگن اور انتھک کاوش کے نقوش جاوید ہیں۔ انہی کو دیکھ کر کہنا پڑتا ہے کہ موصوف قدرت کا ایک پنج سالہ منصوبہ تھے۔ پورے سرحد کو اپنی توانائی اور دانائی سے ایک منصوبہ بندی اور عمل آوری کے طفیل آبنوشی ، مواصلات اور آبپاشی کی سکیموں سے نہال کر دیا تھا۔حتیٰ کہ ملاکنڈ کا پاور پراجیکٹ تھری ایک محیرالعقول کارنامہ تھا۔ وہ ایک پرائیوٹ کمپنی شاڈو نے مکمل کیاپھر ملاکنڈ لیے چلتے ہیں جہاں دو عدد علم و حکمت کے پاور سٹیشنز بھی نصب کردیئے تھے۔ میرا روئے سخن ما لاکنڈ یونیورسٹی اور مالاکنڈ تعلیمی بورڈ کی طرف ہے۔یونیورسٹی کے قیام کا ارادہ کیا تو پاٹا کے ضوابط روکاوٹ بن گئے تھے۔ جنکو بیک جنبش قلم دور کرکے اس کی منظوری صدر مملکت سے لے لی، ڈاکٹر میانداد شاہ ایک سینئر اور ممتاز ماہر تعلیم اور منتظم کو وائس چانسلر نامزد کیا۔ وہ بھی اتنے فعال اور متحرک تھے کہ گورنر کے خواب کی تعبیر کو مقررہ وقت میں پورا کر دکھایا۔ جب یہ مراحل طے ہو رہے تھے تو ڈاکٹر عطاء الرحمن کے کچھ تحفظات تھے جس کا اظہار بھی ایک خط میں کر دیا کہ گورنر صاحب کہیں مٹی کے ڈھیر پر جامع کا نقشہ بنارہے ہیں، گورنر نے خط وصول کیا تو مشتعل ہو گئے اور سیدھے ایوان صدر پہنچے اور ڈاکٹر صاحب کو طلب کر کے کہا کہ اس چھٹی کا ترجمہ ذرا سلیس اور آسان زبان میں کرواور وضاحت کرو کہ آپکے اس سلسلے میں کیا افکار ہیں۔کیونکہ ماضی میں بھی ایسی روکاوٹیں سرحد کے نصیب میں آئی تھیں ۔ ایک واقعہ تو عبدالقیوم خان کے سیکرٹری شیر محمد خان نے ڈاکٹر ظہور احمد اعوان کو سنایا۔ وہ کہتے ہیں کہ عبدالقیوم خان نے مجھے جعفر شاہ وزیر تعلیم کے پاس بھیجا کہ ہمیں سرحد یونیورسٹی چاہیے اس نے کہا کہ کیس اوپر بھیجا ہوا ہے مگر حکومت ٹال مٹول کررہی ہے۔ خان نے کہا کہ موٹر نکالو اور سیدھے وفاقی وزیر تعلیم فضل الرحمن کے پاس پہنچے۔ سجائے ہوئے کمرے میں داخل ہوئے۔شور شرابے کی آوازیں بلند ہوئیں ادھر سے اسی پوز میں نکلے اور کہا چلو۔ لیاقت علی خان کے پاس چلتے ہیں وہ خان کے تیور اور ٹیمپو کا اندازہ کرچکے تھے خود باہر آئے اورکاندھے پر ہاتھ رکھ کر ٹھنڈا کیا ، سمجھایا۔ وہاں سے غلام محمد وزیر خزانہ کے دروازے پر دستک دی انکو پہلے سے اطلاع ہو چکی تھی کہ طوفان آرہا ہے۔ خان ناراض کیوں ہوتے ہو۔ دو جامعات لے لو (لیاقت علی خان نے فرمایا) غلام محمد ۔ فضل الرحمن سے کہہ دو کہ اگر یونیورسٹی نہ بنی تو پاکستان کی ایک یونیورسٹی بھی نہیں بننے دی جائے گی۔یہی عزم اور مستقل مزاجی ۔ گورنر افتخارحسین شاہ کو اسی روایت سے ملی تھی وہ ہمیشہ تعلیمی اور رفاہی سہولتوں میں سمجھوتے اور مصلحت کے قائل نہ تھے۔آسانیاں پیدا کرکے قواعد کے پیچ و خم کو ہموار کر دیتے تھے۔ وہ بھلائی اور نیکی کا ایک نمونہ تھے۔ چکدرہ میں یونیورسٹی نے دوردراز کے محروم طلباء اور طالبات کو اعلی تعلیم سائنس و ٹیکنالوجی کی جدید سہولتوں سے آراستہ کردیا۔ تو اونچے ٹیلے پر بورڈ کی عظیم الشان بلڈنگ بھی ٹارگٹ ٹائم میں اپنی ہدایات کی روشنی میں قائم کر دی ۔ یہ سارے کام یا جنون کے تھے اور یا جنون کے لیے کہ جس نے ایک دبستان علم و حکمت آباد کردیا۔ جسکی کرنیں اپر دیر، باجوڑاور چترال تک کو منور کرنے لگیں۔ دو ایجنسیوں باجوڑ اور مہمند ایجنسی کو ایک ایسے مواصلاتی رابطے سے قربتوں میں ڈھال دیا تھاکہ تعمیر و ترقی اور خوشحالی کا ایک جال بچھا نظر آتا تھا۔گور نر کو قبائلی تنازعات اور انکی نفسیات کا مکمل ادراک تھا۔ وہ بڑے متوازن ، سلجھے ہوئے اور انتہائی مدبرانہ انداز سے قبائلی امور پر گفتگو کرتے تھے انکے عہد کے بڑے گھمبیر مسائل قبائلی علاقوں سے پیدا ہوئے۔ وہ پہلے تاریخ کے گورنر ہیں جنھوں نے متواتر تین روز تک جنوبی وزیرستان میں قیام کر کے دورے کئے، انکے حالات کے سدھار کے لیے سرتوڑ کوششیں کیں اور حکومت کی رٹ قائم کرنے کیلئے انکے ایجنڈے پر بھی تین نکات سرفہرست تھے۔ڈائیلاگز(مکالمہ) ڈیٹرنٹ(تعزیرات اور آپریشنز) اور تعمیراتی منصوبہ جات ۔ انکی شناخت کے لیے پشاور میں علیحدہ سیکرٹریٹ لانچ کر دیا تھا۔ جسکے فنڈز اور ترسیلات کی بذات خود مانیڑنگ کرتے تھے۔ ایک تجربہ کار اور آزمودہ کار بیوروکریٹ اسکے چیف سیکرٹری مقرر کئے۔ جناب سعید خان۔ ایڈیشنل سیکرٹری سکندر قیوم۔ رابطہ افسر کے فرائض خوش اسلوبی اور فرض شناسی سے اداکرتے تھے۔یہ سارا کچھ امن و امان کی بحالی اور شورش زدہ قبائلی علاقوں اور 7ایجنسیوں میں سلامتی اورشانتی لانے کے لیے تھا۔ نشریاتی رابطے کے ذریعے قبائلی زعما کی آواز اقتدار کی تمام سماعتوں تک پہنچا نے کے لیے ایف ایم ریڈیو سٹیشن کا افتتاح اپنے ہاتھوں سے کیا۔ زینت شاہ ساحر آفریدی کو اس کا انچارج بناکر۔ ان صحت مند سماجی اور ثقافتی سرگرمیوں کا ڈول ڈالا تھا۔وہ احتسابی معاملے میں اور مانیٹرنگ کے عمل کے حوالے سے سخت گیر تھے مگر سنگدل ہر گز نہ تھے۔ عسکری تیور رکھنے والا یہ ذی وقار گورنر جلال اور جمال کی رعنائیوں اور توانائیوں سے مالا مال تھااور انہیں کو بروئے کار لاکرایک طرف ایسٹبلشمنٹ کو انکے جارگنز سے نکلنے کی ہدایت کرتا اور آسان زبان میں ان اصلاحات کا ترجمہ کرکے عمل آوری کی طرف زیادہ مستعدی دکھانے کا حکم دیتا تھا۔اس لئے اس وادیء پر خار کو عبور کرتے وقت نہ اس کا جسم چھلنی ہوا اور نہ ضمیر اور دیانت پر کوئی چوٹ آئی۔موصوف کی ہر دلعزیزی کا گراف اس قدر بڑھ چکا ہے کہ کیا قبائل اور کیا بندوبستی علاقوں کے رہائشی، سب ٹوٹ کر چاہتے تھے۔ جنوبی اضلاع والے والہانہ عشق کرتے تھے تو وادئ سوات، دیر، چترال اور ادھر پاڑا چنار تک کے عوام و خواص ان کی وابستگی پر نازاں تھے۔گورنر ہاؤس میں سات ایجنسیوں کے قائدین کو دعوت دیکر ایک لوئے جرگہ کا اہتمام کروایا تھا ایک منظم اور مرتب تقریب میں صدر مملکت بھی موجود تھے۔جہاں پر ایجنسی اور قبائلی علاقے کے لوگوں نے دل کھول کر اظہار خیال کیا۔تقریبا اس کے بعد یہی روایت چل نکلی اور تین جرگے منعقد ہوئے تھے، خلاصہء کلام اور موضوع بحث امن و امان کی بحالی آنے والی نسلوں کی خوشحالی کے لئے ماحول کو بیرونی عناصر کی مدا خلت اور تشدد آمیز کارروائیوں سے پاک کر کے اس مملکت خداداد کو سلامتی کا گہوارہ بنانا تھا۔موصوف سیرئیل ٹائم اور عہد اقتدار سے نکل کر اس وقت رئیل ٹائم میں زندگی اپنے بال بچوں کے ہمراہ گزار رہے ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ رب کریم انکو اپنی عطا سے مزید عزت ، حرمت اور عظمت دے اور اپنی حفاظت میں ان کا سایہء الفت اہل و عیال ، عزیز و اقارب اور چاہنے والوں پر دائم و قائم رکھے۔وہ ہمیشہ اپنے فقید المثال اور بے بدل کارناموں میں زندہ رہیں گے اور جب بھی ہم جیسے لوگ ان کا تذکر کریں گے ہمارے ذہنوں اور دلوں میں انکی گزشتہ یادوں اور باتوں کے کنول کھل اٹھیں گے۔(پروفیسر محمد اقبال) یہ تھے پروفیسر اقبال کے سابق گورنر سید افتخار حسین شاہ کے بارے میں خیالات۔ اب آپ انٹرویو ملاحظہ کیجیئے۔
انٹرویو:۔ سید اطیب حسین +طارق محمود طارق
تحریر: فضل محمود عین ؔ ، عکاسی :۔ بشیر جان
کوہاٹ آن لائن نے اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے حقیقی محسن کوہاٹ اور سن آف دی سوئیل ، سابقہ گورنر سرحد لیفٹیننٹ جنرل(ر)سید افتخار حسین شاہ کا عید الاضحیٰ کے موقع پر ایک مختصر انٹرویو کیا ہے جو یقیناً قارئین کیلئے دلچسپی کا باعث ہوگا۔
سوال:۔ سب سے پہلے تو ہم آپ کو عید کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کوہاٹ آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں، یہ بتائیں کہ آج کل آپ کہاں مصروف ہیں؟
جواب:۔(ہنستے ہوئے)آپ کو بھی عید مبارک ، کوہاٹ میرا شہر ہے میں تو اکثر آتا رہتا ہوں جہاں تک مصروفیت کا سوال ہے تو میں سندھ میں ذوالفقار آباد کے تعمیراتی پراجیکٹ پر کام کررہا ہوں کیونکہ جب تک آدمی زندہ ہو تو اس کو کچھ نہ کچھ اچھا اور تخلیقی کام کرتے رہنا چاہیے۔
سوال:۔آپ نے اپنے عہد گورنری میں کوہاٹ کو یونیورسٹی اور بورڈ کا تحفہ دیا، کالج بنایا، کیا تعلیم آپ کی بنیادی ترجیح ہے۔
جواب:۔ جی ہاں: تعلیم تمام ترقی یافتہ قوموں کی پہلی اور بنیادی ترجیح ہے یہی وجہ تھی کہ میں نے کوہاٹ میں یونیورسٹی بورڈ آف انٹرمیڈیٹ ، ڈگری کالج نمبر2 اور میڈیکل کالج جیسے ارادے قائم کروائے تاکہ ہماری نئی نسل کواعلیٰ تعلیم ان کے اپنے شہر میں مل سکے اور اللہ کا شکر ہے کہ میں اس میں کافی حد تک کامیاب رہا، جہاں تک پر ائمری ، مڈل اورہائی سکولز کی بات ہے تو وہ تو سب بنارہے ہیں مگر تعلیمی معیار ہمارا اوپر نہیں جارہا، 5 کلاسوں کو پڑھانے کیلئے دوٹیچرز کیسے معاملات سنبھال سکتے ہیں؟
سوال:۔ کیا پی ٹی آئی کی حکومت اپنے منشور کے مطابق تعلیم کو بنیادی ترجیح نہیں دے رہی ؟
جواب:۔ یہ تو آپ کو انہی موجودہ حکمرانوں سے ہی پوچھنا چاہیے جہاں تک میری ذاتی رائے کا تعلق ہے تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ کچھ عوامی ایشوز پر سیاست کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی جن میں سے ایک تعلیم بھی ہے، یہ ہماری آنے والی نسلوں کا سب سے اہم اور بنیادی مسئلہ ہے اس لئے اس معاملے میں پوری دیانتداری اور میرٹ پر فیصلے کرنے کی ضرورت ہے مگر بدقسمتی سے یہاں پر ہمارے وزیر وہی کچھ کرتے ہیں جس کا مشورہ انہیں اپنے نادان سیاسی دوست دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے تعلیمی مسائل حل نہیں ہورہے۔
سوال:۔ کوہاٹ سٹینرن فورم میں آپ کو سرپرست بنایا گیا مگر پھر یہ تنظیم چند اجلاسوں کے بعد خاموش ہوگئی اسکی کیا وجہ ہے ؟
جواب:۔ کوہاٹ سٹینرن فورم بنیادی طور پر کوہاٹ کے حقوق کیلئے وجود میں آیا اور میں نے بھی کوہاٹ کازاور اپنے علاقے کی خدمت کرنے کیلئے بطور ایک عام کارکن یہ تنظیم جوائن کی مگر بدقسمتی سے یہ تنظیم ٹھوس کام کرنے کی بجائے صرف سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی نظر ہوگئی اس لئے میں بھی سائیڈ پر ہوگیا دوسری بات یہ ہے کہ کوہاٹ کے مفاد کے نام پرذاتی سیاسی ایجنڈا پر کام ہورہا تھا اور تیسری بات یہ ہے کہ کسی بھی تنظیم کو چلانے اور فعال رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ لیڈر شپ کوہاٹ میں ہی رہے، یہ وجوہات ہیں جن کی وجہ سے یہ فورم غیر فعال نظر آتا ہے۔
سوال:۔ آپ نے اقتدار میں رہ کر کوہاٹ کی کافی خدمت کی ہے، اب کوہاٹ کی خدمت اور ترقی کیلئے آپ کے پاس کیا پلان ہے؟
جواب:۔ جب اللہ پاک نے مجھے گورنری عطا کی تھی تو میرا خیال تھا کہ میں اپنی مٹی کاقرض اتارنے کی کوشش کروں گا اور اس حوالے سے تعلیم میری پہلی ترجیح تھی سو میں نے اس حوالے سے کام کرنے کی کوشش کی اور یونیورسٹی آج آپ کے سامنے ایک تاریخی حوالے کے طور پر موجود ہے مگر مجھے افسوس اس بات کا ہے کہ یونیورسٹی میں کوئی بڑا فنکشن یاتقریب ہوتو مجھے مدعو نہیں کیا جاتا اور نہ کبھی کوہاٹیوں نے اس طرف تو جہ دی ہے جہاں تک اقتدار سے باہررہ کراپنے شہر کی خدمت کرنے کا تعلق ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ خدمت کیلئے ضروری نہیں کہ آدمی کسی بڑے عہدے پر فائز ہو یا بڑے ادارے سے وابستہ ہو بلکہ اگر جذبہ خدمت موجود ہو تو آدمی اپنے بس کے مطابق کسی بھی شعبے میں اپنے وطن اور شہر کی خدمت کرسکتا ہے میرا آئندہ کا لائحہ عمل یہ ہے کہ کوہاٹ میں تعلیمی حوالے سے کام کیا جائے مزید کالجز اور یونیورسٹیاں بنائی جائیں صرف ایک یورنیورسٹی پر خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے ابھی ترقی کے سفر میں ایسے بہت سے مرحلے طے کرنے ہوں گے۔
سوال:۔ آپ کو خدمت کرنے کا اتنا شوق ہے تو آپ عملی سیاست میں کیوں نہیں آئے؟ اور گزشتہ انتخابات میں حصہ کیوں نہیں لیا؟
جواب:۔ بدقسمتی سے سیاست ہمارے ملک میں بہت بدنام ہو چکی ہے ذاتی مفاد کو عوامی خدمت کا خوبصورت نام دے کر ’’ڈرٹی گیم‘‘ کھیلی جاتی ہے اس لئے میں نے اپنے خیر خواہوں اور دوستوں سے جب مشورہ کیا تو مجھے نتیجہ ففٹی ففٹی نظر آیا، آدھے لوگوں کا خیال تھا کہ سیاست سے دور رہ کر سماجی کاموں کے ذریعے اپنے علاقے اور لوگوں کی خدمت کی جائے جبکہ دوسرے آدھے گروپ کا یہ نظر یہ تھا کہ سیاست اور اقتدار کے ذریعے ہی خدمت کی جاسکتی ہے اس لئے سیاست میں آنا ضروری ہے اس لئے میں نے فیصلہ کیا کہ ایسے کسی اقدام سے گریز کرنے کی ضرورت ہے جس میں بقول شاعر’’ اس عاشقی میں عزت سادات بھی گئی‘‘ کاخدشہ ہو، اسی لئے میں نے سیاسی میدان میں قدم نہیں رکھا البتہ اپنی مٹی کی خدمت غیر سیاسی انداز میں کرنے کیلئے میں ہر وقت تیار ہوں۔
سوال:۔ آپ تر کی میں پاکستان کے سفیر بھی رہے ہیں، آج کل ہمارے ایم این اے کوہاٹ کے لئے دوارب ڈالر ترکی سے انویسٹمنٹ کرانے کی بات کررہے ہیں، اس دعوے کا آپ کو کچھ علم ہے؟
جواب:۔ (حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے) کوہاٹ کے لئے دوارب ڈالر کی انویسٹمنٹ تو یقینًا بہت خوش آئند اور حیران کن امر ہے اس کے متعلق تو مجھے کچھ علم نہیں، یہ تو آپ کو ایم این اے شہریار آفریدی ہی بہتر انداز میں بتا سکتے ہیں کہ یہ انویسٹمنٹ سرکاری سطح پر ہو گی یا غیر سرکاری طور پر ترکیش کمپنیاں کریں گی البتہ جب میں ترکی میں سفیر تھا تو میں نے یہ دیکھا کہ تر کی کے لوگ پاکستان سے بہت محبت کرتے ہیں اور وہ ہمیں اپنا بھائی سمجھتے ہیں ان لوگوں کو 1917ء میں پہلی جنگ عظیم کے دوران برصغیر کے مسلمانوں کی جانب سے ملنے والی حمایت اور امداد آج تک آباد ہے اسلئے وہ پاکستان سے ہرقسم کا تعاون سرکاری وغیر سرکاری سطح پر کرنے کیلئے تیار رہتے یں میرا خیال ہے کہ جس طرح اسلام آباد، لاہور اور کراچی کو انقرہ واستنبول کا جڑواں شہر( سسٹر سٹی) قراردیا گیا اسی طرح کوہاٹ میں بھی انرجی سیکٹر میں ہو سکتا ہے کہ کسی ملٹی نیشنل کمپنی نے کوئی معاہدہ کرنے کا فیصلہ کیا ہو۔۔ بہرحال اگر کوہاٹ میں کوئی بڑی انویسمنٹ ہوتی ہے تو یہ بہت خوشی کی بات ہے۔
سوال:۔ کیا پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کرپشن اور دہشت گردی پر قابو پالے گی؟ جواب:۔ میرا خیال ہے کہ کرپشن پر پی ٹی آئی کی حکومت قابو پا سکتی ہے مگر دہشت گردی تھوڑا پیچیدہ مسئلہ ہے اس میں وفاق اور صوبوں کو مل کر حکمت عملی اپنا نی پڑتی ہے جب مل کر کام کیا جائے تو تب جاکر مثبت نتائج سامنے آسکتے ہیں، پی ٹی آئی کی حکومت کو تھوڑا وقت دینے کی ضرورت ہے جھوٹے پروپیگنڈے سے میرے خیال میں اس حکومت کو فیل کرنے کی سازشیں شروع ہوچکی ہیں اور اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو یہ ایک بڑا المیہ ہو گا کیونکہ پھر ہمارے صوبے کے حالات مزید خراب ہو جائیں گے۔
سوال:۔ کیا آپ پی ٹی آئی سے سیاسی ہمدردی رکھتے ہیں اورکیا آئندہ آپ اس پارٹی میں شمولیت کا ارادہ رکھتے ہیں۔
جواب:۔(ہنستے ہوئے ) میں نے آپ کو بتایا ہے کہ میرا کسی بھی سیاسی پارٹی سے کوئی تعلق نہیں، کئی سیاسی پارٹیوں اور جماعتوں نے گزشتہ الیکشن سے پہلے مجھ سے رابطے کئے مگر میں نے کسی کو جائن کرنا ہوتا تو کرچکا ہوتا جہاں تک سیاسی ہمدردی کا تعلق ہے تو مجھے ہر اس پارٹی سے ہمدردی ہے جس کو پاکستان اورعوام کادرد ہے اور وہ عوام کی ویلفےئر کیلئے کچھ حقیقی اقدام کرنا چاہتے ہیں، جہاں تک آئندہ پی ٹی آئی میں شمولیت کا سوال ہے تو مستقبل کے بارے میں تو اللہ پاک بہتر جانتا ہے فی الحال تو میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں۔
سوال:۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ طالبان سے مذاکرات ہونے چاہئیں یا نہیں؟
جواب:۔ میں ایک فوجی ہونے کے باوجود شروع سے مذاکرات کا حامی ہوں کیونکہ امن ہمارے خطے کی بنیادی ضرورت ہے اور اسکا حصول صرف جنگ سے ممکن نہیں بلکہ آخر میں مذاکرات ہی کرنے پڑتے ہیں ، وفاقی حکومت نے آل پارٹیز کانفرنس بلا کر اور متفقہ طور پر مذاکرات کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ خوش آئندہ ہے مگر اس میں وقت لگے گا کیونکہ یہ ایک طویل اور صبر آزما عمل ہوتا ہے۔
سوال:۔ آپ نے بھی تو اپنے دور میں مذاکرات کئے تھے مگر وزیرستان میں نیک محمد پر ڈورن حملے کے بعد یہ سلسلہ آگے نہ بڑھ سکا ، کیوں ؟
جواب:۔ ان مذاکرات میں صرف میرا کردار نہیں تھابلکہ مرکزی حکومت اور آرمی کارول زیادہ تھا مگر معاہدے کے آخری روز نیک محمد کو ڈرون حملے میں مار دیاگیا جس کے نتیجے میں دہشت گردی کی لہر میں انتقام کا عنصر زیادہ ہوگیا اور پھر جو کچھ ہورہا ہے وہ آپ کے سامنے ہے، اسی لئے حکومت اور طالبان کے مابین آج تک ایک دوسرے پر اعتماد کرنے کی کمی ہے اور دونوں فریقین ایک دوسرے کو معاہدوں کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیتے ہیں اب بھی مجھے خدشہ ہے کہ مذاکرات شروع ہوں تو کوئی بڑا حادثہ نہ ہو جائے ورنہ پھر معاملہ زیرو سے شروع کرنا پڑے گا۔
سوال:۔ کیا یہی وجوہات تھیں جس پر آپ کو گورنر شپ چھوڑنی پڑی!
جواب:۔ اس پر مین زیادہ بات نہیں کرنا چاہتا ، گورنر شپ میں نے چھوڑی بھی اور مجھ سے لی بھی گئی ہے۔
سوال:۔ کیا سابقہ صدر وجنرل پرویز مشرف سے آپکا اب بھی رابطہ ہے؟
جواب:۔ جی نہیں وہ نظر بند ہیں ان سے میرا کوئی رابطہ نہیں۔
سوال:۔ جی ہمارا آخری سوال یہ ہے کہ کوہاٹ میں آئل ریفائنری کہاں بننی چاہئے؟
جواب:۔ کوہاٹیوں کو اجتماعی مفاد کا خیال رکھتے ہوئے آئل ریفائنری وہاں بنانی چاہیے جہاں سے تیل اور گیس زیادہ نکل رہا ہو اس ایشو پر سیاست نہیں ہونی چاہیے ہمیں افراد کے بجائے اداروں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے میں نے اپنے دور میں انفرادی کام نہیں کئے بلکہ اجتماعی کام کرنے کی کوشش کی جس سے آج نئی نسل کو فائدہ پہنچ رہا ہے یونیورسٹی کی مثال آپ کے سامنے ہے آج کتنے لوگوں کا روز گار اس سے لگا ہوا ہے اسی لئے میری کوہاٹ کے عوام اور منتخب نمائندوں سے اپیل ہے کہ خدارا ذاتی مفادات اور سیاست کو چھوڑ کر اجتماعی طور پر کام کریں تو آنے والی نسلیں بھی آپ کو اچھے الفاظ میں یاد کریں گی۔
کوہاٹ آن لائن :۔ جناب آخر میں جو پیغام دینے کا ایک رسمی سوال ہوتا ہے اسکا جواب تو آپ نے خود دیدیا ہے آپ کا پیغام اہل کوہاٹ کو سمجھنا چاہیے۔ آپ کا بہت بہت شکریہ!
میں کوہاٹ آن لائن کا مشکور ہوں کہ آپ نے عید الاضحیٰ کی مصروفیات میں سے وقت نکالا اور تشریف لائے۔ خدا حافظ ********

مصنف کے بارے میں:

انقلابی سوچ رکھنے والے گل نبی آفریدی سینی گمبٹ ڈاٹ کام سمیت گمبٹ کمپیوٹر اکیڈمی کے بانی و پرنسپل ہیں، جو کہ محنت اور صرف محنت پر یقین رکھتے ہیں۔

تبصرہ کیجیے