تاریخی پُل خوشحال گڑھ 1895 تا 2011

گذشتہ ایک سال سے پل پر بھاری ٹریفک کی پابندی کے باوجود رات کو ایک ہزار روپے فی HTVگاڑی ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے

خوشحال گڑھ پل کی 1917 میں لی گئی تصویر انگریز انجنئیر تصویر میں نمایاں ہے۔

تاج برطانیہ کے زیر تسلط برصغیر پاک وہند کی انڈین ریلوےلائن کا ایک اور تاریخی سال آہنی پل تاریخ کی نظرہوگیا تقریبا 116سال کا طویل القامت پل بالاخر4/5 سال کامہمان ہے مورخین کے مطابق اس وقت کے برطانوی راج نے پورے برصغیر تک رسائی کے لیے ریلوے لائن جب بچھائی تو پورے انڈیا خصوصاً پاکستان میں ان ریلوے پلوں نے کلیدی کردار ادا کیا کیونکہ 200 سالہ قدیم برٹش ٹیکنالوجی نے نہ صرف ریلوے بلکہ سڑکوں کیلۓ بھی رابطہ کیلئے کردار ادا کیا۔تاریخ کا مطالعہ کیا جا ئے تو اس جیسے کئی آہنی پل دریاؤں پر سایہ کیے ہوئے ہیں تاہم خوشحال گڑھ پل کے قریب ہی چند کلو میٹر کے فاصلے پر واقعہ مشہور اٹک قلعہ کے قریب اسی طرح کا آہنی پل موجودہ اکیسویں صدی کیلۓناکافی ثابت ہوکرپرانے عجائب گھر میں منتقل ہو گیا، جبکہ سینی گمبٹ سے صرف 25کلومیٹر کے فاصلے پرخوشحال گڑھ میں تقریباَ 4یا5سال کے بعد116سالہ پرانےعجائب گھرآثارے قدیمہ کی شکل اختیار کر جائے گا۔

کچھ عرصہ پہلے کا ایک واقعہ مشہور ہے کہ ایک انگریز سیاح پورے پاکستان پھرتے پھرتے جب اس پل تک پہنچا توپرانے آہنی پل کو دیکھ کر اور اس پر کندہ کی گئی اسکی سنِ تعمیر دیکھ کربجائے پل کو پار کرنے کے واپس ہو گیا کیونکہ اسکے خیال یہ پل اپنی مدت پورا کر چکا تھا تاہم اسکا کہنا تھا کہ یہ پل مزید 100سال بھی پورا کر سکتا ہے 1895سے 1906تک کے 11سال کے طویل عرصے میں مکمل ہونے والے اس پل کے بارے میں بچپن میں پرانی کہانیاں سنتے تھے کہ خوشحال گڑھ پل خوشحال خان نامی آدمی نے دشمن تخریب کاروں کو پل کی چابیاں نہ دے کر دریا میں ڈال دیں جس کیوجہ سے اسکے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے گئے۔ کہا جا تا ہے کہ خوشحال گڑھ ریلوے پل پر پہلا ریلوے کوئلے کا انجن گزارنے والے کا تعلق کوھا ٹ کےعلاقے توغ بالا سے تھا۔ اس پر انگریزافسر نے خوش ہو کر انجن ڈرئیوار کو بطورانعام کچھ دینے کا کہا تو اس ڈرئیوار نےصرف اس خواہش کا اظہار کیا کہ پل پر کسی قسم کا ٹیکس نہ لیا جا ئے تاہم ایک صدی گزرنے کے بعد موجودہ ریلو ے حکا م نے اس تاریخی خواہش کو پس پشت ڈال کر اپنا خسارہ پورا کر نے کیلئے ریلوے ٹریک کے نیچے پل کے حصے سے گزرنے والی ٹریفک سے عرصہ پندرہ سال سے ٹیکس وصول شروع کر رکھی ہے تاہم کو ھاٹ انتظامیہ کی طر ف سے موجودہ سیلابی صورتِ حال کیوجہ سے گذشتہ ایک سال سے پل پر بھاری ٹریفک کی پابندی کے باوجود رات کو ایک ہزار روپے فی HTVگاڑی ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔ایک اور واقعہ کوھا ٹ اور خو شحال گڑھ کے درمیان ریلو ے ٹریک پر کسی جگہ پل کے بارے میں مشہور ہے کہ علاقہ غورزئی پایان میں ریلوے ٹریک بچھانے کے دوران ایک پل بنانے کیلئے بڑےبڑے پتھروں کی ضرورت پڑی تو ایک صاحب بہادر نے پہاڑ سے بڑا پتھر اانعام کی غرض اُٹھا کر لایامعائنہ کے دوران منشی صاحب نے جب گورے افسر کو ماجرا سنایا، تاکہ انعام مل سکے تو ایک انگریز افسر نے بجائے انعام دینے کے بجائے کہا کہ شاباش تم لا سکتے ہو ، ایک اور بڑا پتھر لاؤ۔ بہر حال ملک میں انگزیز دور ریلوے و دیگر پل آہستہ آہستہ تاریخ کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔صوبہ خیبر پختونخواہ کے آٹھ جنوبی اضلاع وفاقی دارلحکومت سے ملنے والے اکلوتے پل پر بھاری ٹریفک اورآئل ریفائنری کیلئے تیل کی ترسیل کیلئے یہ پل ناکافی ثابت ہوا، اور عرصہ دو سال سے بھاری ٹریفک کے لیے بند ہے۔

28 جولائی 2011 کو وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی نے نئے پل کا سنگ بنیاد رکھا۔

تاہم بالآخر کئی سالوں تک خوشحال گڑھ پل پر سیاست چمکانے کے بعد کوہاٹ کے نہ تجربہ کار سیاستدانوں نے 28 جولائی 2011 بروز جمعرات کو پل کا افتتاح وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے ہاتھوں کروا ہی ڈالاجس پر 1.5بلین روپے لاگت آئے گی ، جس میں بجا طور پر کردار شکردرہ ، مکوڑی ، گرگری آئل فیلڈ کی مول کمپنی کا ہے ، جس میں ادھی رقم مو ل کمپنی نے دینے کا وعدہ کیا ہے۔ پل دو فیز میں مکمل ہوگا. باور کیا جا تا ہے کہ متوقع کالا باغ ڈیم بننے کی صورت میں پرانا تاریخی خوشحال گڑھ پل پانی میں ڈوب جا ئے گا۔ جبکہ نیا پل جدید ڈایزائن کی بدولت ڈوبنے سے محفوظ رہے گا۔

نوٹ : پل کے بارے میں مزید قیمتی آراء کی قدر کی جا ئی گی۔

منصور اختر

تبصرہ کیجیے