کوھاٹ راولپنڈی G.T روڈ آئل ٹینکرز نے سپیڈ میں ون ویلرز موٹر سائیکلز کو پیچھے چھوڑدیا

آئل ٹینکرز نے تو ساتھ چلنے والے ٹریفک کے ساتھ ساتھ گنجان آبادی والے علاقوں کے مکینوں کا جینا دو بھر کر رکھاہے

رپورٹ کے مطابق کوھاٹ راولپنڈی کی جرنیلی سڑک جو کہ کوھاٹ ہی نہیں بلکہ خیبر پختونخواہ  کے 7 اضلاع کوھاٹ ، ہنگو، کرک، لکی مروت، ، بنوں، ٹانک،ڈیرہ اسماعیل خان، جبکہ 4 قبائلی ایجنسیوں اورکزئی، کرم، شمالی وزیرستان، اور جنوبی وزیرستان کی وفاقی دارالحکومت  کو ملانے والی واحد سٹرک ہے مذکورہ علاقوں کی بھاری بھر ٹریفک خصوصاً ہائی ایس وغیرہ کے آئے روز حادثات کیا کم تھے کہ ون ویلرز موٹرسائیکل  سواروں کے بعد (کوھاٹ ، کرک،ہنگو) کی آئل فیلڈز سے چلنے والے آئل ٹینکرز نے تو ساتھ چلنے والے ٹریفک کے ساتھ ساتھ گنجان آبادی والے علاقوں کے مکینوں کا جینا دو بھر کر رکھاہے۔ ایک اندازے کےمطابق شکردرہ آئل فیلڈ سے اٹک آئل ریفائنری راولپنڈی تیل لیجانے والے آئل ٹینکر کئی درجن سے زائد افراد اور گاڑیوں کا کچلاہے آفریدی برادران کے ٹریفک کمپنیوں پراثر رسوخ اور خصوصاً  آئل ٹینکر کسی سرکاری کارروائی سے بچ جاتے ہیں۔ (2000 اور 2006 )کے درمیان دوسری طرف روڈ کی خستہ حالی الگ ہے ۔FHA کے حکام نے گورنر  افتخار کی مہربانی سے کہیں پہلے 50 سال میں روڈ کو نئی زندگی تو دے دی تاہم تعمیر کے فورًا بعد آئل ٹینکرز کو بھی کھلی اجازت دے دی گئی جس نے ایک سال کے اندر اندر روڈ کا ایکسرا نکا ل ڈالا۔ ایک رپورٹ کے مطابق کوھاٹ ڈویثرن کے پچھلے کمیشنر خالد خان عمرزئی نے اپنے دور میں ان ویو ہیکل اور سرپھرے ٹینکر کا کوھاٹ پنڈی روڈ خصوصاً خوشحال گڑھ روڈ پر داخلہ بند کردیا جس پر ٹینکرز اینڈ کمپنی نے بڑا  احتجاج  کیا  اور عدالت تک پہنچ گئے ذرائع کے مطابق شکر درہ آئل فیلڈ سے چلنے والے ٹینکرز کو کوھاٹ ٹنل براستہ پشاور پنڈی تیل لیجانے کی NOC ملی ہوئی ہے جس پر ڈرائیور  اور مالکان ملی بھگت سے پیسے اور تیل بچانے کیلئے کوھاٹ نیٹ ورک استعمال کر رہے ہیں۔ جبکہ ایک اور اطلاع کے مطابق موجودہ خوشحال گڑھ پل سے گزرنے والے ٹینکرز کو موجودہ انتظامیہ نے رات 11 ، 12 بجے کے بعد پُل سے گزارنے کی اجازت دے ہے تاہم خوشحال گڑھ پُل پر تعینات شیرجوان سپشل بھتہ لیکر 50 سے 100 روپے فی ٹینکر کے حساب سے آئل ٹینکروں کو مذکورہ ٹائم سے پہلے ہی گزار دیتے ہیں۔ جس کی بناء پر پنڈی اور کوھاٹ سے آنے جانے والی مسافر گاڑیا ں کئی کئی گھنٹے رش میں پھنسی رہتی ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ 7 اضلاع کے تقریباً 13 ایم این اے 4 ایجنسیوں کے 9 ایم این اے 7 سینٹرز اور دیگر VIP اس یتیم پُل کو استعمال کرتی ہیں۔ نئے پُل کی تعمیر  اور متوقع شکردرہ بائی پاس کی تعمیر سے جہاں کوھاٹ تا خوشحال گڑھ سیکشن تو سنسان ہو ہی جائے گا۔ تاہم حادثات میں کمی اور روڈ کے تحفظ میں بھی مدد ملے گی۔

مصنف کے بارے میں:

انقلابی سوچ رکھنے والے گل نبی آفریدی سینی گمبٹ ڈاٹ کام سمیت گمبٹ کمپیوٹر اکیڈمی کے بانی و پرنسپل ہیں، جو کہ محنت اور صرف محنت پر یقین رکھتے ہیں۔

تبصرے

  1. sajid says:

    hamaray han nay our poranay mobile ki kharedo ferokht ki jati han wagera wagera pro sajid khan 03459646625 n03129646626

تبصرہ کیجیے