کوہاٹ و سینی گمبٹ اسپیشل رپورٹ

5 کروڑ روپے اگر سالانہ بنیادوں پرانفارمیشن ٹیکنالوجی پر لگائے جائیں تو کوہاٹ کو آئی ٹی سٹی بننے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی

یہ بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے کہ کوہاٹ صوبہ خیبر پختونخوا کا وسائل کے لحاظ سے امیر ترین ضلع ہونے کے باوجود پسماندگی اور لاچارگی کی آخری حدود کو چھورہا ہے ، قدرتی وسائل اور معدنیات کے حوالے سے خوش نصیب ہونے کے باوجود اس ضلع کے عوام بدنصیبی کا ماتم کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ وقت بدلا ، حکومتیں بدلیں، نئے چہرے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچے لیکن افسوس کہ کوہاٹ کے عوام کی تقدیر نہ بدلی ، تعلیم، صحت ، بے روزگاری ، سہولیات زندگی کی عدم دستیابی اور دیگر گوناگوں مسائل نے عرصہ دراز سے ضلع کوہاٹ کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے لیکن ان مسائل کے حل کیلئے کبھی سنجیدہ کوششیں نہیں کی گئیں، کبھی کوئی عذر تراشا گیا، کبھی کوئی حیلہ کیا گیا اور کبھی کوئی بہانہ بنایاگیا، اور ہاں ، ہمیشہ فنڈز کی عدم دستیابی کابھی رونا رویا گیا اور اتنا رویا گیا کہ کوہاٹ کے سادہ لوح عوام کو بھی رونے پر مجبور کردیا گیا اور وہ صبر شکر کرکے خاموش ہوگئے ، لیکن فنڈز کی عدم دستیابی والی بات کا بھانڈہ کئی مرتبہ بیچ چورا ہے پھوڑے جانے کے باوجود عوام کو کانوں کان خبر نہ ہونے دی گئی اور وہ حقیقت ہمیشہ لاکھوں لوگوں سے چھپائی جاتی رہی جس حقیقت میں محض چند لوگوں کاذاتی مفاد پوشیدہ تھا، اب ہم ان حقائق کو کیسے جھٹلا سکتے ہیں۔
کہ کوہاٹ کیلئے فنڈز کی کوئی کمی نہیں ہے، کوہاٹ کو آئل اینڈ گیس کی رائلٹی کی مد میں ہرسال تقریباً50 کروڑ روپے ملتے ہیں، یہ رائلٹی ٹوٹل آمدن پر 10 فیصد کے حساب سے دی جاتی ہے۔ اس میں سے حلقہ 37 اور 38 کے ممبرن اسمبلی کو تقریباً 12 ، 12 کروڑ روپے ملتے ہیں جبکہ حلقہ 39 کے ایم پی اے کو تقریباً 22کروڑ روپے سے بھی زیادہ ملتے ہیں۔ حلقہ 39 کے ایم پی اے کو اس وجہ سے دوگنی رقم دی جاتی ہے کہ قدرتی وسائل اسی کے حلقے میں پائے جاتے ہیں۔ اس بات میں کوئی شک وشبہہ نہیں ہے کہ کروڑوں روپے کی یہ رقم عوام کی ہے اور اس بھاری رقم کو عوامی فلاح وبہبود پر ہی خرچ کرنا لازمی ہے، لیکن آج تک کسی کو بھی اس بات کا علم نہیں ہو سکا ہے کہ اتنے بھاری نوٹ کہاں چلے جاتے ہیں ؟ یہ آج تک ایک گہراراز ہی رہا ہے کہ 50 کروڑ روپے کی رائلٹی کا اصل مصرف کیا ہے ؟ محض چند لاکھ روپے عوامی منصوبوں پر خرچ کرکے کروڑوں روپے کس کنویں میں پھینکے جارہے ہیں، اگر واقعی اس رائلٹی کو عوام کی ترقی وخوشحالی پر خرچ کیا گیا ہے تو پھر تو کوہاٹ کو صوبہ خیبر پختونخوا ہی نہیں بلکہ پاکستان کا سب سے امیر ضلع ہونا چاہیے تھا ، لیکن حقائق تو اس کے برعکس ہیں، حقیقت تلخ ہوتی ہے، اور کوہاٹ پر نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت چیختی چھنگاڑتی ہوئی نظر آتی ہے کہ یہ بدنصیب ضلع محرومیوں کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔
کروڑوں روپے کی اس رائلٹی کاآڈٹ کون کرتا ہے، کہاں کرتا ہے اور کس طرح کرتا ہے، ان باتوں کو چھوڑ ےئے آئیے عوامی عدالت میں اس کا آڈٹ کرتے ہیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی بالکل شفاف طریقے سے ہو جائے، چلئے ، حلقہ پی ایف 37 سے شروع کرتے ہیں، اس حلقے کے ایم پی اے ملک امجد آفریدی صاحب ہیں جنہوں نے گزشتہ پانچ سالوں میں تقریباً50کروڑ سے زیادہ روپے رائلٹی کی مد میں حاصل کئے یہ خاصی بڑی رقم ہے اور اس سے حلقے کے بہت سے کام باآسانی کرائے جاسکتے تھے (یاد رہے کہ ترقیاتی کاموں کے لئے جو فنڈ ملتا ہے وہ اس رقم کے علاوہ ہوتا ہے) لیکن اگر حلقہ پی ایف37 پر نظر دوڑائی جائے اور کوئی بھی صاحب نظر یہاں کادورہ کرے تو یوں محسوس ہوگا جیسے یہاں سرے سے کوئی کام کبھی ہوا ہی نہ ہو۔ جو کام ایم پی اے صاحب کے دائرہ اختیار میں ہیں اور جو بغیر کسی رکاوٹ کے ہو سکتے تھے انکے لئے بھی عوام کو ہمیشہ دربدر ٹھوکریں کھانے پر مجبور کیا جاتا رہا ہے ، لوگ ’’حجرے‘‘ کے چکر کاٹ کاٹ کراپنے چپل گھسا دیتے ہیں لیکن اپنے جائز کاموں کیلئے بھی انہیں مہینوں انتظار کی تکالیف برداشت کرنی پڑتی ہیں اور پھر اگر غلطی سے کوئی کام ایم پی اے صاحب سے سرزد ہو جائے تو اپنے نام کی اتنی بڑی پلیٹ لگائی جاتی ہے کہ کئی میل دور سے پہلے’’نام‘‘ نظر آتا ہے ، بعد میں ’’ کام ‘‘ کے درشن ہوتے ہیں۔ عوام کے پیسوں سے عوام کی ہی آنکھوں میں دھول جھونکی جارہی ہے اور الٹااحسان بھی جتا یا جاتا ہے۔
اب اس بات کو کم ظرفی کے کونسے پیمانے میں ناپا جائے گا کہ علاقے میں چھوٹا ساٹرانسفر بھی لگایا جائے تو اپنے نام کی تختی اتنی بڑی لگادی جاتی ہے کہ پورا ٹرانسفارمر ہی کبھی کبھی اس تختی کے جغر افیے میں کہیں چھپ جاتا ہے۔ یعنی کام کیے بھی جائیں تو محض اپنے نام کی تختیوں کی خاطر، کوئی بھی یہ سوال نہیں پوچھتا کہ جناب! ہم نے آپ کو اسمبلیوں میں بھیجاہی کیوں تھا؟۔ یہ کام تو آپ نے کرنے ہی کرنے ہیں، ہم پر احسان جتانے کی تو کوئی وجہ ہی نہیں بنتی۔ لیکن سیاسی بازیگروں سے ایسا سوال کرے کون؟ ان کے پاس تو ویسے ہی اس جیسے سوالوں کے درجنوں جوابات موجود ہوتے ہیں۔ آج بھی حلقہ پی ایف 37 کی گلیوں ، نالوں، گیس ، بجلی کے نظام، ہیلتھ سنٹرز اور سکولوں کی حالت خستہ اور ناگفتہ بہہ ہے ، اور عوام بے شمار مسائل ومشکلات سے اپنی مدد آپ کے تحت نبرد آزماہیں۔
کچھ ایسے ہی حالات حلقہ پی ایف 38 کے ہیں جس کے سابق ایم پی اے نے دس سال حکومت کے مزے لوٹے ہیں اور کئی سال تو وزارت سے بھی لطف اندوز ہوئے ہیں لیکن اگر کوہاٹ کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے لئے کی گئی کوششوں کا جائزہ لیا جائے تو ان کی کارکردگی پر بھی بہت بڑا سوالیہ نشان منڈلا رہا ہے۔ موصوف نے اپنے دس سالہ اقتدار میں کل 3ارب سے زیادہ کے فنڈز حاصل کئے۔اس حوالے سے اگر ان کی کوہاٹ کے لئے خدمات کو دیکھا جائے تو وہ بھی فیل ہی رہے ہیں اور عوام نے انہیں اپنی خدمت کیلئے جو مینڈیٹ دیا تھا، وہ اس سے ہر گز انصاف نہیں کرسکے اور اس امتحان میں ان کا نتیجہ صفر رہا،جس میں کامیاب ہو کر عوام کے دلوں پرحکومت کی جاسکتی ہے۔ جوکام حلقہ 38 کے سابق ایم پی اے نہایت آسانی سے کرسکتے تھے، وہ انہوں نے 50 فیصد بھی نہیں کیے، دوسروں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انہوں نے بھی عوام کو بے وقوف بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، بس چھوٹے چھوٹے گلی محلوں کے کام کروائے، اپنے نام کی تختیاں لگوائیں ، اور لیجئے، خدمت ہوگئی۔دس سال میں ان کے نام کے آگے عوامی خدمت کا کوئی ایسا منصوبہ نہیں جس پر عوام انہیں یاد کرتے پھریں۔اسکے علاوہ جو انہوں نے اے این پی چھوڑنے کا معاوضہ لیا اُس پر اتنا ہی کافی ہے ،

کہ بِک گیا تھا سرِراہ چند سِکوں میں
ترا ضمیر پُرانے لباس جیسا تھا
اب حلقہ 39 پرنظر ڈرائیں تو یہاں کے حالات اور بھی بدتر دکھائی دیتے ہیں۔ دیکھا جائے تو یہاں کے لوگوں کا اللہ ہی حافظ ہے ، جہاں آج بھی انسان اور جانور ایک ہی گھاٹ پر پانی پیتے ہوئے نظرآتے ہیں۔ غالباً یہ حلقہ ضلع کے سب سے پسماندہ حلقوں اور علاقوں میں سرفہرست ہے۔ یہاں کے مسائل اتنے گھمبیر ہیں کہ انہیں دیکھ کر حلقہ پی ایف 38 اور 37 پررشک آتا ہے جہاں مسائل کی بھر مار کے باوجود لوگ کسی قدرآسان زندگی گزار رہے ہیں، حالانکہ پسماندگی، مسائل اورمحرومیوں کے حوالے سے تینوں حلقوں کامقدر ایک جیسا ہے لیکن دیہی علاقوں پرمشتمل حلقہ پی ایف 39 کو ’’مسائلستان‘‘ کہا جاسکتا ہے۔حالانکہ سالانہ کروڑوں روپے کی رائلٹی اس حلقے کے سوئے ہوئے نصیب جگانے کے لئے کافی بلکہ کافی سے بھی زیادہ ہے۔ اس حلقے کے ایم پی اے نے منتخب ہونے کے چند ماہ بعد فوراً ہی اپنی پانچوں انگلیاں گھی میں ڈبو کر سرکڑاہی میں ڈال دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ علاقہ مسائل کے حل کیلئے ترس رہا ہے کیونکہ منتخب نمائندے کو اپنی فکر پڑی ہوئی ہے۔پشاور میں بیٹھ کر اپنے سارے کام سیدھے کروانے کیلئے کوشاں ہیں، اورعلاقے کی فکر سے زیادہ انہیں اپنا اور اپنے رشتہ داروں کا غم زیادہ کھائے جارہاہے، جس کا عملی مظاہرہ کچھ یوں دیکھنے میں آرہاہے کہ آئل اور گیس کمپنیوں میں اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں کی ’’بھرتیوں ‘‘ میں نہایت پھرتی سے کام لیا جارہا ہے اورعلاقے کا حال یہ ہے کہ اس کے لئے ابھی تک کوئی میگاپراجیکٹ منظورکروانے میں ایم پی اے صاحب بری طرح ناکام رہے ہیں۔

یہ رقم اس ترقیاتی فنڈ کے علاوہ ہے جومنتخب نمائندوں کو عوام کی فلاح وبہبود پرخرچ کرنے کے لئے دی جاتی ہے۔ سوال یہ بھی پیدا ہوتاہے کہ جس اتھارٹی کی طرف سے یہ رقم کوہاٹ کے منتخب نمائندوں کو فراہم کی جاتی ہے ، اس نے آج تک اس رقم کا حساب کیوں نہیں مانگا؟ آج تک کسی سے بھی یہ نہیں پوچھا گیا کہ اتنی بھاری بھر کم رقم ضلع کوہاٹ میں کس جگہ خرچ کی گئی؟ کہاں خرچ کی گئی اور اس سے عوام کی ترقی وخوشحالی اور ضلع کی تعمیر وترقی کے لئے کون سے منصوبے شروع کیے گئے؟ واضح رہے کہ یہ کوئی سیاسی رشوت نہیں تھی بلکہ یہ رقم کوہاٹ کے لاکھوں لوگوں کی امانت تھی اور ان ہی پرخرچ ہو نی تھی، لیکن نہیں ہوئی، اگر یہ رقم دیانتداری سے ضلع کی ترقی پرخرچ ہوتی تو آج کوہاٹ کی یہ حالت نہ ہوتی، عوام مسائل ومشکلات کا شکار ہونے کی بجائے ایک خوشحال، پر سکون اورآسودہ زندگی گزار رہے ہوتے ۔ لیکن خوابوں اور حقیقت کی دنیا میں بہت فرق ہوتا ہے، منتخب نمائندے انتخابات کے دوران عوام کو جوسنہرے خواب دکھاتے ہیں، ان کی تعبیر اس بھیانک حقیقت کی صورت میں نکلتی ہے کہ لوگوں کو اپنے ہی پیسوں کے لئے ان کی خوشامد اور منت سماجت کرتے ہوئے دیکھا جاتا ہے جو منتخب ہونے سے پہلے عوام کے پاؤں پکڑ کر ووٹوں کی خاطر ان کی ہی منتیں کررہے ہوتے ہیں۔ یہ پیسے کس کے ہیں؟ عوام کے ، تو پھران کی خاطر وہ خوشامد اور منتوں کا بازار کیوں گرم کریں؟ یہ تو ان لوگوں کا فرض اولین ہے کہ عوامی مسائل بغیر کسی شرط کے فی الفور حل کریں، اور یہ ان کا عوام پر کوئی احسان نہیں ہے۔ نہ ہی عوام کوان کے زیر احسان آنا چاہیے یہ تو ہر لحاظ سے کوہاٹ کے عوام کاحق ہے کہ وہ اپنے کام نہ ہوتے دیکھ کر اپنے نمائندوں کامحاسبہ کریں اور ان کا گریبان عوامی عدالت میں پکڑ کر پوچھیں کہ آپ کو ہم نے آخر کس مقصد کیلئے اسمبلیوں میں بھیجا تھا؟ کیا اس لئے کہ آپ اقرباء پروری کی انتہا کردیں۔ اپنی تجوریاں بھریں، معمولی سے کاموں پر اپنے ناموں کی تختیوں کو ٹانگتے پھریں، اور ہماری ہی رائلٹی کو ہم پر ہی خرچ کرنے سے گریز کریں، 50 کروڑ کی یہ رقم اگر ’’اندھے کنوؤں ‘‘ میں جانے کی بجائے عوامی بہبود پرخرچ ہو تو پورے پاکستان میں کوہاٹ ایک ماڈل ضلع بن سکتا ہے ، اگر اس رقم میں سے ہر سال صرف 5 کروڑ روپے تعلیم کے شعبے پر لگائے جائیں تو کوہاٹ ایجوکیشن سٹی بن کر صوبے بھر کے لئے ایک مثال بن سکتا ہے۔ 5 کروڑ روپے اگر سالانہ بنیادوں پرانفارمیشن ٹیکنالوجی پر لگائے جائیں تو کوہاٹ کو آئی ٹی سٹی بننے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی ، ہر سال اگر ہسپتالوں کو 5 کروڑ کی مفت ادویات فراہم کی جائیں تو کسی مریض کو دوائی دستیاب نہ ہونے پرایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرنا نہیں پڑے گا۔ محض چند کروڑ روپے کھیلوں کے شعبے پر صرف کیے جائیں تو نہ صرف کوہاٹ کے نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کیا جاسکے گا بلکہ ہم ملک بھر کو اچھے کھلاڑی دینے کی پوزیشن میں ہوں گے ، اسی طرح پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے کچھ رقم مختص کی جائے تو ہزاروں لوگوں کو گندے جوہڑوں اور تالابوں پرجانوروں کے ساتھ پانی پینے سے نجات مل سکتی ہے، اور اگر چند کروڑ روپے ضلع میں ہر سال چھوٹی صنعتوں کے قیام پر لگائے جائیں تو کوہاٹ کے سینکڑوں ہزاروں بے روزگار افراد کو باعزت روزگار فراہم ہو سکتا ہے۔ اتنے کروڑ روپے ان منصوبوں پر خرچ کرنے کے بعد بھی کئی کروڑ کی رقم بچ جاتی ہے جو یہ نمائندگان اپنی محنت کا صلہ سمجھ کر پھر بھی بچا سکتے ہیں، کیونکہ پوچھنے والا تو ویسے بھی کوئی نہیں ہے، محض چند پراجیکٹس کاآغاز کرکے اس رائلٹی کا کچھ ہی حصہ دیانت داری سے خرچ کیا جائے تو شاید کوہاٹ کے عوام پورے 50کروڑ کا حساب بھی نہ مانگیں، جیسے انہوں نے ماضی میں بھی ان لوگوں سے نہیں مانگا جو کوہاٹ کے وسائل اورفنڈز کو شیر مادر سمجھ کر ہڑپ کرتے رہے ہیں۔ اب بات یہ ہے کہ 50 کروڑ روپے کی رقم موجودہے، پھر بھی حیرت ہے ان عوام پر جو اپنے حقوق کے لئے نااہل حکمرانوں کی خوشامد اور چمچہ گیری میں لگے رہتے ہیں، کاش مقتدر لوگوں کو خود ہی اس بات کا احساس ہو جائے کہ یہ پیسہ ادھر ہی رہ جانا ہے، دنیا کی فکر میں آخرت کو بھول جانااس مشینی دور کا سب سے بڑا المیہ ہے ، اگر یہ بات نہ ہوتی تو ہم 50 کروڑ روپے کی بھاری رقم ہوتے ہوئے بھی اس کیلئے ترس کیوں رہے ہوتے ۔ گویا پیسے موجود ، مگر ایمانداری ناپید، افسوس ایمانداری نام کی چڑیا کو ہم کہاں ڈھونڈیں ؟؟؟؟؟

مصنف کے بارے میں:

انقلابی سوچ رکھنے والے گل نبی آفریدی سینی گمبٹ ڈاٹ کام سمیت گمبٹ کمپیوٹر اکیڈمی کے بانی و پرنسپل ہیں، جو کہ محنت اور صرف محنت پر یقین رکھتے ہیں۔

تبصرہ کیجیے